کشمیر ریز نیوز نیٹورک
سرینگر،24؍جولائی: دہشت گردی سے متاثرہ کئی خاندانوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے انہیں ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے کے اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی نے ان کا درد سنا ہے۔
ایل جی سنہا دہشت گردی کے متاثرین کے رشتہ داروں کو تقرر نامے تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران بات چیت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہشت گردی کے متاثرین کو ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے لئے ایک خصوصی پورٹل کا بھی آغاز کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ‘اس اقدام سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کو راحت، ہمدردانہ تقرریوں اور دیگر قسم کی مدد فراہم کرنے کے عمل کو ہموار اور تیز کیا جائے گا۔
سہیل یوسف شاہ
سرحدی ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک متاثرہ سہیل یوسف شاہ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے کسی بھی حکمران جماعت نے ان کی پرواہ نہیں کی۔
شاہ کی والدہ کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے ان کا درد سننے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ہمارا درد سننے اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے پہل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے جموں و کشمیر کے حکمران سیاسی طبقے نے آئی ایس آئی کے ہاتھوں میں کھیل کھیلا، دہشت گردوں کو بااختیار بنایا اور متاثرین کو سڑنے کے لئے چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب انہیں لگتا ہے کہ ہمارا اپنا کوئی ہے جو ہماری بات سنتا ہے، ہمارا درد محسوس کرتا ہے اور ہماری فلاح و بہبود کے بارے میں فکر مند ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی حقیقی شکایات کو دور کرنے کے لئے کئی اقدامات شروع کرنے کے لئے ایل جی کی ستائش کی۔
فیاض احمد شیخ
شیری بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک اور متاثرین فیاض احمد شیخ نے کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے متاثرین کو درپیش مصائب اور درد پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو شام کے وقت ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا اور موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص تصور نہیں کر سکتا کہ ان سالوں میں ان کی فیملی کو کس تکلیف سے گزرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں کیونکہ کسی نے ان کی پرواہ نہیں کی اور ان کی تکلیف کو سنا۔ ایک کے بعد ایک آنے والی حکومتوں نے صرف جھوٹے وعدے کیے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نےجموں و کشمیر کی سابقہ حکومتوں کو جھوٹے وعدوں اور نہ ختم ہونے والی تصدیق کے ساتھ متاثرین کا مذاق اڑانے کے لئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے ایل جی منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے متاثرین کے لئے ریزرویشن کا اہتمام کریں تاکہ ملک کے لئے قربانیاں دینے والوں کی یاد وں کا احترام کیا جاسکے۔
ایک معمر غمزدہ ماں کی پکار
شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی غمزدہ خاتون نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مدد کی پرجوش اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اکلوتے بیٹے کو دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا ہے اور ان پر اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوی۔
خاتون کے ساتھ اس کی بہو اور اس کے مردہ بیٹے کے چھوٹے بچے بھی تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی موت کے بعد سے انہیں حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ انہوں نے ایسے کنبوں کا درد سننے کے لئے پہل کرنے کے لئے ایل جی کی ستائش کی اور ان سے ایسے تباہ شدہ کنبوں کی مدد کرنے کی اپیل کی۔




